خدا جانے کہ سارے مالکوں کو
دکھائی دیتے ہیں کیوں شُوم مزدور
لگا دیتے ہیں اس مد میں کروڑوں
کہ لاکھوں سے رہیں محروم مزدور
نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں قطعات کا مرکز
خدا جانے کہ سارے مالکوں کو
دکھائی دیتے ہیں کیوں شُوم مزدور
لگا دیتے ہیں اس مد میں کروڑوں
کہ لاکھوں سے رہیں محروم مزدور
اپنے وطن کی ہم کبھی تعریف کرتے ہی نہیں
حُبِ وطن کے باب میں سب کا بلڈ ہے کولڈر
جا کر اسمبلی میں کوئی دیکھےترقی کا گراف
پہلے انگوٹھا چھاپ تھے اب جعلی ڈگری ہولڈر
ہم مسلمان تو ہر بار ظفر
سخت رمضان کی آمد کر دیں
کھانے پینے کی سبھی چیزوں کی
کیا سوچ کے ہم جشن آزادی مناتے ہیں
جس دور میں خودداری کج رائی ہے خامی ہے
پوچھے تو کوئی جا کے یہ قوم کے لیڈر سے
ٹھیک ہے سرکار کا اعلامیہ
میڈیا کے دعوے تو سچے نہیں
وہ جو زرداری پہ برسے تھے ظفر
یہ قتل یہ فساد یہ ڈاکے یہ حادثے
اخبار دیکھ کر مجھے چکر سا آ گیا
کیا واقعی یہ آج کا اخبار ہے ظفر
یا تو کسی وکیل کی فائل تھما گیا