Pages

Sep 15, 2010

یکسانیت

ہیں تو دو دنیاؤں کی مخلوق ظفر

کام ہے اِن کا یکساں بھی اور وکھرا بھی

قوم و وطن کا قیمہ قیمہ کرتے ہیں

خودکش حملہ آور بھی اور وزرا بھی

جادوگر

ایسا کوئی جادوگر بھی کر نہیں سکتا

جو جاُدو گاڑی کے مچھندر کر سکتے ہیں

جس ویگن میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہے

اُس میں اور بھی بندے اندر کر سکتا ہے

ہمارے لیڈر

قومی ریزرو ڈینجر لیول پہ ہیں تو کیا ہے

اپنی تجوریوں کی توندیں تو بھر چلے ہیں

یہ اپنے لیڈروں کو معلوم ہی نہیں ہے

کس رُوٹ کے ڈرائیور ہیں اور کدھر چلے ہیں

علامات

اچانک خوردنی اجناس کو سُوجھے خلابازی

یکایک رنگ اُڑ جائے خریداران بے بس کا

تحیر میں نہ پڑنا جان لینا کہ کہیں پھر سے

مسلماں خیر مقدم کرتے ہیں ماہ مقدس کا

گھاس اور گدھا

موقع سے فیض اُٹھانا اُن کی ہابی ہے

جب گھاس میسر ہو جائے تو کیوں نہ چریں

آؤ کہ گاڑیں تنبو روڈ کے نُکرے پر

سیلاب زدوں کے نام پہ اپنی توند بھریں

جمعہ کی عید

خدا معلوم کیوں سرکار دو خطبوں سے ڈرتی ہے

اگر ہو عید جمعہ کو تو خطرہ اس میں کیسا ہے

یہی ہے ان کی منشا کہ جھلک دکھلانے سے پہلے

یہ ہم سے چاند خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

Aug 30, 2010

جنگل کا قانون

آج بنام ِامن جو دہشت گردی ہے دنیا میں

اس سے دنیا والوں نے یہ بات سمجھ لی ہو گی


جنگل کا قانون ہے اب بھی دنیا بھر میں لاگو

جس کے ہاتھ میں لاٹھی ہو گی بھینس اُسی کی ہو گی