ہیں تو دو دنیاؤں کی مخلوق ظفر
کام ہے اِن کا یکساں بھی اور وکھرا بھی
قوم و وطن کا قیمہ قیمہ کرتے ہیں
خودکش حملہ آور بھی اور وزرا بھی
نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں قطعات کا مرکز
ہیں تو دو دنیاؤں کی مخلوق ظفر
کام ہے اِن کا یکساں بھی اور وکھرا بھی
قوم و وطن کا قیمہ قیمہ کرتے ہیں
خودکش حملہ آور بھی اور وزرا بھی
ایسا کوئی جادوگر بھی کر نہیں سکتا
جو جاُدو گاڑی کے مچھندر کر سکتے ہیں
جس ویگن میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہے
اُس میں اور بھی بندے اندر کر سکتا ہے
قومی ریزرو ڈینجر لیول پہ ہیں تو کیا ہے
اپنی تجوریوں کی توندیں تو بھر چلے ہیں
یہ اپنے لیڈروں کو معلوم ہی نہیں ہے
کس رُوٹ کے ڈرائیور ہیں اور کدھر چلے ہیں
اچانک خوردنی اجناس کو سُوجھے خلابازی
یکایک رنگ اُڑ جائے خریداران بے بس کا
تحیر میں نہ پڑنا جان لینا کہ کہیں پھر سے
مسلماں خیر مقدم کرتے ہیں ماہ مقدس کا
موقع سے فیض اُٹھانا اُن کی ہابی ہے
جب گھاس میسر ہو جائے تو کیوں نہ چریں
آؤ کہ گاڑیں تنبو روڈ کے نُکرے پر
سیلاب زدوں کے نام پہ اپنی توند بھریں
خدا معلوم کیوں سرکار دو خطبوں سے ڈرتی ہے
اگر ہو عید جمعہ کو تو خطرہ اس میں کیسا ہے
یہی ہے ان کی منشا کہ جھلک دکھلانے سے پہلے
آج بنام ِامن جو دہشت گردی ہے دنیا میں
اس سے دنیا والوں نے یہ بات سمجھ لی ہو گی
جنگل کا قانون ہے اب بھی دنیا بھر میں لاگو
جس کے ہاتھ میں لاٹھی ہو گی بھینس اُسی کی ہو گی