Pages

Aug 12, 2010

اِس حمام میں

طمع کس کی ہے جو خفتہ ہے اب تک

نظر کس کی ہے جو کانی نہیں ہے

کرپشن سب کی ظاہر ہو چکی ہے

یہ ٹوپی اب سلیمانی نہیں ہے

تم

تیرے وعدوں پر یقیں آتا ہے کم

جھوٹ کا طومار لگتے ہو مجھے

ہانکتے ہو اِس قدر بے پر کی تم

شام کا اخبار لگتے ہو مجھے

Aug 11, 2010

زرداری اور جوتیاں

حضرتِ بش کی ہمسری پائے
ہر کسی کا یہ مرتبہ نہ ہوا
سچ تو یہ ہے کہ صدر زرداری
جوتیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا

احساس مر نہ جائے تو ۔۔۔


کرتے رہے جو صرفِ نظر اپنی قوم سے
اُن لیڈروں کی دہر میں سبکی بڑی ہوئی
احساس مر نہ جائے تو زرداری کے لئے
کافی ہیں سر پہ جوتیاں دو ہی پڑی ہوئی


Aug 7, 2010

ایک دعا

حماقت پہ قائم رہیں لوگ دائم
پھلے اور پھولے سیاست کا پیشہ
وطن والے سارے جہنم میں جائیں
میاں اور زرداری کھپیں ہمیشہ

Aug 5, 2010

سرزنش

شریفوں کے نہیں ہوتے ہیں یہ لچھن
کہے دیتا ہوں تجھ سے گالیاں نہ دے
میں تیرے کان جڑ سے کھینچ ڈالوں گا
ابے الّو کے پٹھے گالیاں نہ دے

قومی کرکٹ ٹیم

جب ظفر یاب تھے کیا کیا تھے ہمارے ہیرو
اب جو ناکام ہوئے ہیں تو لگے کیا مس فٹ
کیوں نہ ہر میچ میں ٹھینگوں کے انعامات ملیں
گلی ڈنڈے کی طرح کھیل رہے ہیں کرکٹ