طمع کس کی ہے جو خفتہ ہے اب تک
نظر کس کی ہے جو کانی نہیں ہے
کرپشن سب کی ظاہر ہو چکی ہے
یہ ٹوپی اب سلیمانی نہیں ہے
نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں قطعات کا مرکز
طمع کس کی ہے جو خفتہ ہے اب تک
نظر کس کی ہے جو کانی نہیں ہے
کرپشن سب کی ظاہر ہو چکی ہے
یہ ٹوپی اب سلیمانی نہیں ہے
تیرے وعدوں پر یقیں آتا ہے کم
جھوٹ کا طومار لگتے ہو مجھے
ہانکتے ہو اِس قدر بے پر کی تم
شام کا اخبار لگتے ہو مجھے
حضرتِ بش کی ہمسری پائے
ہر کسی کا یہ مرتبہ نہ ہوا
سچ تو یہ ہے کہ صدر زرداری
جوتیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا
کرتے رہے جو صرفِ نظر اپنی قوم سے
اُن لیڈروں کی دہر میں سبکی بڑی ہوئی
احساس مر نہ جائے تو زرداری کے لئے
کافی ہیں سر پہ جوتیاں دو ہی پڑی ہوئی
حماقت پہ قائم رہیں لوگ دائم
پھلے اور پھولے سیاست کا پیشہ
وطن والے سارے جہنم میں جائیں
میاں اور زرداری کھپیں ہمیشہ
شریفوں کے نہیں ہوتے ہیں یہ لچھن
کہے دیتا ہوں تجھ سے گالیاں نہ دے
میں تیرے کان جڑ سے کھینچ ڈالوں گا
ابے الّو کے پٹھے گالیاں نہ دے
جب ظفر یاب تھے کیا کیا تھے ہمارے ہیرو
اب جو ناکام ہوئے ہیں تو لگے کیا مس فٹ
کیوں نہ ہر میچ میں ٹھینگوں کے انعامات ملیں
گلی ڈنڈے کی طرح کھیل رہے ہیں کرکٹ