یوں کوئی دے رہا ہے رہ رہ کر
اپنی آمد کے سلسلے کی ڈیٹ
جیسے دیتی ہے گورنمنٹ ہم کو
لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کی ڈیٹ
اپنی آمد کے سلسلے کی ڈیٹ
جیسے دیتی ہے گورنمنٹ ہم کو
لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کی ڈیٹ
نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں قطعات کا مرکز
سیاست کی چرخی بھی چلتی رہی
وزیروں مشیروں کے دوروں کے ساتھ
دکھاتے رہے ہاتھ سیلاب میں
علی بابا چالیس چوروں کے ساتھ
کام جیسے اور اپنا کوئی دنیا میں نہیں
کاوشِ دنیا و دیں سے مل چکی یکسر نجات
ہوبہو مِرگی کی صورت بن گئی ہے شاعری
ڈھل چکا عشق عقد میں جن کا
وہ دوبارہ کُھرک سے ڈرتے ہیں
ایسے تائب ہوئے ہیں وہ عاشق
چوڑیوں کی کھنک سے ڈرتے ہیں
سارے راجہ اِندر ہیں اس پُرجا میں
اپنے اپنے حصے کی ملکہ کے سوا
جتنے سُندر چہرے ہیں دنیا میں ظفر
خالُو سب کے تاڑُو ہیں خالہ کے سوا