Pages

Sep 20, 2010

شرارتوں کے انداز

یوں کوئی دے رہا ہے رہ رہ کر
اپنی آمد کے سلسلے کی ڈیٹ
جیسے دیتی ہے گورنمنٹ ہم کو
لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کی ڈیٹ

Sep 18, 2010

عوام الناس

سارے صیاد کامراں ٹھہرے
خوگرِ جال ہیں عوام الناس
اب سیاست کے رہزنوں میں ظفر
لوٹ کا مال ہیں عوام الناس

مضبوط حکومت

ایسا چوں چوں کا مربہ نہیں دیکھا میں نے
کوئی عفریت نوالے کو نگل نہ پایا
ایسی مضبوط حکومت ہے کہ توبہ توبہ
عید کا چاند بھی جمعہ کو نکل نہ پایا

Sep 15, 2010

علی بابا





سیاست کی چرخی بھی چلتی رہی

وزیروں مشیروں کے دوروں کے ساتھ

دکھاتے رہے ہاتھ سیلاب میں

علی بابا چالیس چوروں کے ساتھ

کارِ بیکاری

کام جیسے اور اپنا کوئی دنیا میں نہیں

کاوشِ دنیا و دیں سے مل چکی یکسر نجات

ہوبہو مِرگی کی صورت بن گئی ہے شاعری

فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلات

دھڑکا

ڈھل چکا عشق عقد میں جن کا

وہ دوبارہ کُھرک سے ڈرتے ہیں

ایسے تائب ہوئے ہیں وہ عاشق

چوڑیوں کی کھنک سے ڈرتے ہیں

اپنی اپنی تاڑ

سارے راجہ اِندر ہیں اس پُرجا میں

اپنے اپنے حصے کی ملکہ کے سوا

جتنے سُندر چہرے ہیں دنیا میں ظفر

خالُو سب کے تاڑُو ہیں خالہ کے سوا