پر اب اُن کی پذیرائی نہیں باقی
ظفر ہر دوسرا بندہ صحافی ہے
قسم کھانے کو سچائی نہیں باقی
نوید ظفر کیانی کے تلخ و شیریں قطعات کا مرکز
یہ قتل یہ فساد یہ ڈاکے یہ حادثے
اخبار دیکھ کر مجھے چکر سا آ گیا
کیا واقعی یہ آج کا اخبار ہے ظفر
یا تو کسی وکیل کی فائل تھما گیا
طمع کس کی ہے جو خفتہ ہے اب تک
نظر کس کی ہے جو کانی نہیں ہے
کرپشن سب کی ظاہر ہو چکی ہے
یہ ٹوپی اب سلیمانی نہیں ہے
تیرے وعدوں پر یقیں آتا ہے کم
جھوٹ کا طومار لگتے ہو مجھے
ہانکتے ہو اِس قدر بے پر کی تم
شام کا اخبار لگتے ہو مجھے
حضرتِ بش کی ہمسری پائے
ہر کسی کا یہ مرتبہ نہ ہوا
سچ تو یہ ہے کہ صدر زرداری
جوتیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا
کرتے رہے جو صرفِ نظر اپنی قوم سے
اُن لیڈروں کی دہر میں سبکی بڑی ہوئی
احساس مر نہ جائے تو زرداری کے لئے
کافی ہیں سر پہ جوتیاں دو ہی پڑی ہوئی
حماقت پہ قائم رہیں لوگ دائم
پھلے اور پھولے سیاست کا پیشہ
وطن والے سارے جہنم میں جائیں
میاں اور زرداری کھپیں ہمیشہ