Pages

Aug 13, 2010

بارِ خدا

تھے ہم بھی نام لیوا اعلیٰ قدروں کے
پر اب اُن کی پذیرائی نہیں باقی
ظفر ہر دوسرا بندہ صحافی ہے
قسم کھانے کو سچائی نہیں باقی

Aug 12, 2010

آج کا اخبار

یہ قتل یہ فساد یہ ڈاکے یہ حادثے

اخبار دیکھ کر مجھے چکر سا آ گیا

کیا واقعی یہ آج کا اخبار ہے ظفر

یا تو کسی وکیل کی فائل تھما گیا

اِس حمام میں

طمع کس کی ہے جو خفتہ ہے اب تک

نظر کس کی ہے جو کانی نہیں ہے

کرپشن سب کی ظاہر ہو چکی ہے

یہ ٹوپی اب سلیمانی نہیں ہے

تم

تیرے وعدوں پر یقیں آتا ہے کم

جھوٹ کا طومار لگتے ہو مجھے

ہانکتے ہو اِس قدر بے پر کی تم

شام کا اخبار لگتے ہو مجھے

Aug 11, 2010

زرداری اور جوتیاں

حضرتِ بش کی ہمسری پائے
ہر کسی کا یہ مرتبہ نہ ہوا
سچ تو یہ ہے کہ صدر زرداری
جوتیاں کھا کے بے مزا نہ ہوا

احساس مر نہ جائے تو ۔۔۔


کرتے رہے جو صرفِ نظر اپنی قوم سے
اُن لیڈروں کی دہر میں سبکی بڑی ہوئی
احساس مر نہ جائے تو زرداری کے لئے
کافی ہیں سر پہ جوتیاں دو ہی پڑی ہوئی


Aug 7, 2010

ایک دعا

حماقت پہ قائم رہیں لوگ دائم
پھلے اور پھولے سیاست کا پیشہ
وطن والے سارے جہنم میں جائیں
میاں اور زرداری کھپیں ہمیشہ